حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی کے دفتر نےاپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کی سرزمین پر کئی روز سے جارحیت جاری ہے، جس کے نتیجے میں بہت سے بہادر محافظوں سمیت سینکڑوں معصوم شہریوں اور بچوں کی شہادت ہوئی ہے۔ فوجی کارروائیوں کا دائرہ کار کئی ممالک تک پھیل چکا ہے جس کے باعث دیگر ممالک کے بہت سے علاقے اور تنصیبات ایسی صورتحال سے دوچار ہوئیں جو طویل عرصے سے اس خطے میں نہیں دیکھی گئی تھیں۔
آیت اللہ سیستانی کے دفتر نے واضح کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے کسی رکن ملک پر سلامتی کونسل سے بالاتر مخصوص شرائط لاگو کرنے یا اس کے سیاسی نظام کو گرانے کے مقصد سے یکطرفہ جنگ کا فیصلہ بین الاقوامی منشوروں کی خلاف ورزی کے علاوہ ایک خطرناک اقدام ہے۔ یہ اقدام علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بہت برے نتائج کا باعث بن سکتا ہے اور خطرہ ہے کہ اس سے طویل عرصے تک بڑے پیمانے پر افراتفری اور بے چینی پھیلے گی جس سے علاقے کے عوام اور دیگر خطوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس بیان کے آخر میں دفتر آیت اللہ العظمیٰ سیستانی نے اس ظالمانہ جنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے تمام مسلمانوں اور دنیا کے حریت پسندوں سے اس کی مذمت کرنے اور مظلوم ایرانی قوم کے ساتھ اظہار یکجہتی کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے تمام موثر بین الاقوامی طاقتوں اور بالخصوص اسلامی ممالک سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ جنگ کو فوری طور پر روکنے کیلئے کوشش کریں۔









آپ کا تبصرہ